LIVE
Loading Breaking News...

جے ڈی وانس کا بیان اور امریکہ کی جانب سے شہری ہلاکتوں کا اعتراف

News Image
امریکی نائب صدر کے امیدوار جے ڈی وانس کے متنازع بیان نے جنگی جرائم اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکی ردعمل کی تاریخی بحث کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ماضی کے ان واقعات کی یاد دلاتا ہے جہاں امریکہ نے ابتدائی طور پر شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری سے انکار کیا تھا۔
امریکی نائب صدارتی امیدوار جے ڈی وانس کی جانب سے حال ہی میں دیا گیا ایک بیان عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے ایک فضائی حملے کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں پر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض 'حادثات' قرار دیا۔ وانس کا یہ تبصرہ اس تاریخی پیٹرن کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی عسکری تاریخ میں طویل عرصے سے نظر آتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے غیر ملکی سرزمین پر ہونے والے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی اموات کے بعد ابتدائی طور پر انکار کرنا اور پھر برسوں بعد حقائق کا اعتراف کرنا ایک پرانا معمول بن چکا ہے۔ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے 'کولٹرل ڈیمیج' یا غلط انٹیلی جنس جیسے اصطلاحات کا سہارا لیتی ہیں۔ تاریخ کے دریچوں پر نظر ڈالی جائے تو ویتنام جنگ کے دوران مائی لائی (My Lai) کا قتل عام ہو یا حالیہ برسوں میں افغانستان اور عراق میں ہونے والے متعدد ڈرون حملے، امریکہ کا ردعمل اکثر یکساں رہا ہے۔ ان تمام واقعات میں ابتدا میں امریکی حکام نے ہلاکتوں کی تردید کی، تاہم آزادانہ تحقیقات اور میڈیا کے دباؤ کے بعد شواہد سامنے آنے پر خاموشی سے اعتراف کر لیا گیا۔ افغانستان میں ہونے والے کئی ڈرون حملوں کے بعد پینٹاگون نے ابتدا میں انہیں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی قرار دیا، لیکن بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ نشانہ بننے والے افراد عام شہری تھے جو شادی کی تقریبات یا اپنے گھروں میں موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق، جے ڈی وانس کا یہ بیان اس سیاسی بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے جہاں انسانی جانوں کے ضیاع کو عسکری ضرورت کے نام پر معمولی حیثیت دی جاتی ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان ممالک میں امریکہ کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات پر عالمی سطح پر ایک بڑی بحث کی ضرورت ہے کہ آیا جدید ٹیکنالوجی سے لیس فضائی حملے عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہیں یا پھر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ آخر میں، یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری ایسے معاملات پر ایک سخت موقف اپنائے۔ کسی بھی ملک کا یہ کہنا کہ 'ایسا ہوتا رہتا ہے' (Things happen) انسانی حقوق کی پامالیوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ جب تک دنیا بھر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شفاف احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، تب تک ایسی ٹریجڈیز کا سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اسے عسکری مجبوریوں کا نام دے کر چھپایا جاتا رہے گا۔