LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج میں شدید لڑائی، 100 سے زائد ہلاک

News Image
یمن میں ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ جھڑپیں ملک کے کلیدی سٹریٹ کی جانب پیش قدمی کے دوران ہوئیں۔
یمن میں جاری خانہ جنگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور یمنی سرکاری افواج کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حوثی باغیوں نے ملک کے ایک اہم اور تزویراتی سٹریٹ (آبنائے) کی جانب اپنی پیش قدمی شروع کر دی ہے، جس کے جواب میں سرکاری فوج نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ جمعرات کے روز سے شروع ہونے والی ان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں باغی جنگجو اور سرکاری فوجی دونوں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، حوثی باغی اس اہم آبی گزرگاہ اور سٹریٹ کے کنٹرول کے لیے پوری طاقت جھونک رہے ہیں تاکہ اپنی عسکری پوزیشن کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس سٹریٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس راستہ سمجھا جاتا ہے۔ لڑائی کے دوران توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی بڑی تعداد کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب، یمنی حکومت اور بین الاقوامی اتحاد نے حوثی باغیوں کی اس پیش قدمی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز کسی بھی قیمت پر باغیوں کو ان اہم تنصیبات پر قبضہ نہیں کرنے دیں گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ جھڑپیں مزید طول پکڑتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف یمن بلکہ پوری خلیجی ریاستوں اور عالمی تیل کی سپلائی چین پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خطے میں استحکام برقرار رہ سکے۔ مستقبل قریب میں اس محاذ پر مزید خونریز جھڑپوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ حوثی باغی اپنی پوزیشنز کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ شہری آبادی کو بھی ان علاقوں سے نقل مکانی کا سامنا ہے جہاں شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی امدادی ادارے یمن میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ لڑائی کا یہ نیا دور ملک کو ایک اور بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔