World
اسرائیل کا غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ سامنے آ گیا
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے غزہ کے تمام فلسطینیوں کی غیر قانونی اور جبری بے دخلی کا نیا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس خطرناک منصوبے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف اخبار یروشلم ڈیلی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی نے غزہ کی تمام فلسطینی آبادی کو خطے سے باہر دھکیلنے کا ایک نیا اور خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مبینہ طور پر غزہ کے باسیوں کو زبردستی ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنا ہے، جسے بین الاقوامی قوانین کے تحت صریحاً غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس جبری بے دخلی کے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنگی جرم کے مترادف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی قیادت اور عوام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات اور منصوبے خطے میں پائیدار امن کے قیام کی تمام امیدوں پر پانی پھیر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کو اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔