LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں قوم پرست جماعت اے ایف ڈی کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ

News Image
جرمنی کی قوم پرست جماعت 'اے ایف ڈی' ریاستی انتخابات میں چالیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ یہ پیش رفت جرمن سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔
جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے، جہاں قوم پرست جماعت 'الٹرنیٹو فار جرمنی' (AfD) انتخابات میں ایک بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ انتخابی رجحانات اور پولز کے مطابق، یہ جماعت ریاست میں 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، جو کہ جرمن سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے عوام کا موجودہ حکومتی پالیسیوں، خاص طور پر امیگریشن اور اقتصادی صورتحال سے عدم اطمینان کارفرما ہے۔ 'اے ایف ڈی' کی جانب سے یہ ممکنہ کامیابی جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ اور لمحہ فکریہ ہے۔ روایتی سیاسی پارٹیاں، جو طویل عرصے سے جرمنی کے سیاسی نظام پر قابض رہی ہیں، اب دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے نظریات کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس انتخابی پیش رفت نے نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا جرمن ووٹرز ایک سخت گیر پالیسیوں والی حکومت کی حمایت کرنے پر آمادہ ہیں یا یہ محض موجودہ نظام کے خلاف ایک احتجاجی ووٹ ہے۔ دوسری جانب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر AfD واقعی 40 فیصد کا ہندسہ عبور کر لیتی ہے تو اسے نظر انداز کرنا یا حکومت سازی میں شامل نہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ دیگر سیاسی جماعتیں اب تک اس جماعت کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں، لیکن انتخابات کے نتائج کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال اتحادی سیاست کے پرانے فارمولوں کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔ آنے والے دن سیکسنی انہالٹ کے ساتھ ساتھ پورے جرمنی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے کیونکہ یہ انتخابی نتائج مستقبل کے سیاسی اتحادوں کی سمت کا تعین کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران AfD نے خاص طور پر معاشی تحفظ، عوامی خدمات کی بہتری اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں سخت موقف اپنانے پر زور دیا ہے، جس نے دیہی اور صنعتی علاقوں کے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ جبکہ مخالفین اس پیش رفت کو جمہوریت کے لیے ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں، وہیں حامی اسے ایک نئی اور درکار سیاسی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ اب دنیا بھر کی نظریں سیکسنی انہالٹ کے حتمی انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں جو کہ یورپی سیاست میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک بڑی علامت بن سکتے ہیں۔