LIVE
Loading Breaking News...

جیمز واٹ کی 1780 میں ایجاد کردہ دنیا کی پہلی خطوط کاپی کرنے والی مشین

News Image
اسکاٹ لینڈ کے نامور موجد جیمز واٹ نے 1780 میں ایک ایسی مشین پٹینٹ کروائی تھی جو تحریری خطوط کی ہو بہو نقل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ یہ قدیم ترین کاپیئر جدید دور کی مشیں کی طرح ہی کام کرتا تھا جس میں خاص سیاہی اور دباؤ کا استعمال کیا جاتا تھا۔
آج کے جدید دور میں کسی بھی دستاویز یا تحریر کی فوٹو کاپی بنانا چند سیکنڈز کا کام ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سہولت کی بنیاد صدیوں پہلے رکھی گئی تھی؟ جدید ڈیجیٹل اور الیکٹرانک فوٹو کاپی مشینوں کی آمد سے سینکڑوں سال قبل، اسکاٹ لینڈ کے ایک ذہین موجد جیمز واٹ نے 1780 میں ایک ایسی انوکھی مشین ایجاد کی تھی جو خطوط کی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ جیمز واٹ، جو کہ بھاپ کے انجن میں اپنی انقلابی اصلاحات کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، انہوں نے تحریری مواصلات کو آسان بنانے کے لیے اس کاپیئنگ پریس کا ڈیزائن تیار کیا اور اسے پیٹنٹ کروایا۔ اس ایجاد نے اس دور کے تاجروں اور مصنفین کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا تھا کیونکہ اس سے بار بار ایک ہی خط ہاتھ سے لکھنے کی زحمت سے نجات مل گئی تھی۔ اس تاریخی مشین کا کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی دلچسپ اور اپنے دور کے لحاظ سے نہایت جدید تھا۔ یہ مشین بنیادی طور پر دباؤ، ایک خاص قسم کے پتلے کاغذ اور خصوصی طور پر تیار کردہ سیاہی کے امتزاج پر کام کرتی تھی۔ جب کوئی شخص اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے خط کو اس پریس کے ذریعے کاپی کرنا چاہتا تھا، تو وہ اصل خط کو اس خاص سیاہی سے لکھتا تھا جو کہ عام سیاہی سے مختلف ہوتی تھی۔ اس کے بعد، خط کو مشین کے ذریعے ایک نم کاغذ کے ساتھ دبایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے اصل خط کی تحریر دوسری سائیڈ پر موجود کاغذ پر منتقل ہو جاتی تھی۔ اگرچہ یہ طریقہ کار آج کے دور کے حساب سے بہت سادہ اور ابتدائی معلوم ہوتا ہے، لیکن اٹھارہویں صدی کے اواخر میں یہ ایک بہت بڑی سائنسی اور تکنیکی کامیابی تھی۔ جیمز واٹ کی اس ایجاد نے مستقبل میں دفتری آلات اور کاپی کرنے والی ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار کی، جو آگے چل کر کاربن پیپر اور پھر جدید ترین زیراکس مشینوں کی شکل میں دنیا کے سامنے آئی۔ جیمز واٹ کا یہ کارنامہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی عقل ہمیشہ سے مشکلات کا حل تلاش کرنے میں پیش پیش رہی ہے، اور ان کی یہ کاپیئنگ مشین تاریخ کی اہم ترین موجدات میں شمار ہوتی ہے۔