LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا تجارتی خسارہ اٹھارہ فیصد بڑھ گیا، تازہ ترین معاشی رپورٹ

News Image
مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں پاکستان کا تجارتی خسارہ اٹھارہ فیصد بڑھ کر سات اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ بلند پیداواری لاگت اور درآمدات میں اضافے کے باعث ملکی برآمدات پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ملک کا تجارتی خسارہ اٹھارہ فیصد اضافے کے بعد سات اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق مالی سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کی رفتار زیادہ تیز رہی ہے جس کی وجہ سے تجارتی عدم توازن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلند پیداواری لاگت، بالخصوص توانائی کے مہنگے داموں نے ملکی برآمدی شعبے کی کمر توڑ دی ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ماہانہ بنیادوں پر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2026ء کے دوران تجارتی خسارے میں بیس فیصد کمی بھی دیکھی گئی تھی، تاہم دو ماہ کے مجموعی اعداد و شمار اب بھی ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی اداروں کی جانب سے برآمدات کو فروغ دینے اور غیر ضروری درآمدات کو روکے رکھنے کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں، لیکن زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ صنعتی شعبے کو درپیش توانائی اور مالیاتی مسائل فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگر تجارتی خسارے کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ جاری کھاتے کے خسارے کو مزید وسعت دے سکتا ہے جس سے ملکی معاشی ترقی کے اہداف بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کاروباری حلقوں اور تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایکسپورٹ انڈسٹری کو سستی بجلی اور گیس فراہم کرے تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بحال ہو سکے اور تجارتی توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔