World
ال نینو کی تشکیل: 2027 میں شدید موسم کی پیشگوئی
اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایک طاقتور اور سپر سائزڈ ال نینو دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور ریکارڈ توڑ گرمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو خوراک اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک طاقتور اور سپر سائزڈ 'ال نینو' (El Nino) تشکیل پا رہا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں شدید گرمی اور انتہائی نوعیت کے موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو تاریخ کا سب سے طاقتور ترین سیزن ثابت ہو سکتا ہے، جس کے دنیا بھر کے ماحولیات اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مختلف ممالک کے حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کا پیشگی ذخیرہ کر لیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے بھی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی شدت کے ممکنہ اثرات کے لیے خود کو تیار رکھیں کیونکہ اس نظام کی وجہ سے خوراک کی فراہمی اور زرعی اجناس کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔ عالمی سطح پر سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ ال نینو کا یہ رجحان سمندروں کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ عالمی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، اور ال نینو کی اس نئی لہر کے بعد گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں شدید خشک سالی، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور دوسری طرف طوفانی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کریں اور امدادی تیاریوں کو بہتر بنائیں۔ شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہیں اور حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کے دوران نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے کیونکہ آنے والے سالوں میں موسمی شدت کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔