World
نیپال گلیشیئر سیلاب: تباہی کے اسباب اور ابتدائی انتباہی مشکلات
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے اور شدید سیلاب کے بعد اموات کی تعداد تیرہ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے ابتدائی انتباہی علامات کو وقت پر شناخت کرنا انتہائی پیچیدہ اور مشکل عمل تھا۔
نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں हाल ہی میں گلیشیئر کے گرنے اور اس کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس ہولناک آفت کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد نے ایک بدلے ہوئے اور ویران منظر نامے کی داستانیں بیان کی ہیں جہاں ان کے مطابق اب زمین کا کوئی ٹکڑا بھی محفوظ نہیں بچا۔ رپورٹ کے مطابق اس آفت کی وجہ سے اموات کی تعداد تیرہ سو پچیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران سرنگوں میں پھنسے ہوئے کارکنوں کو نکالنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں جبکہ اجتماعی تدفین کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین اور محققین کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر اس تباہی سے پہلے ملنے والے ابتدائی خطرات اور انتباہی علامات کو بروقت کیوں نہیں پہچانا جا سکا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خطے میں جغرافیائی پیچیدگیوں، بلند و بالا پہاڑوں اور مواصلاتی نظام کی عدم دستیابی کی وجہ سے گلیشیئرز کی اندرونی تبدیلیوں کا پتہ لگانا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ان کے اندر پانی کے ذخائر بن جاتے ہیں اور اچانک دباؤ بڑھنے سے وہ پھٹ جاتے ہیں۔ اس طرح کے حادثات کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ان پہاڑی سلسلوں میں پوری طرح فعال نہیں ہیں۔ حکومت اور متعلقہ عالمی اداروں کی طرف سے اب ان علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید سخت کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔