LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں کی شدید جھڑپیں، اہم علاقہ بازیاب

News Image
یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان ملک کے مغربی حصوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جن کے نتیجے میں متعدد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں اہم علاقہ دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوثی باغیوں کے خلاف جاری شدید جھڑپوں کے دوران ایک اہم علاقہ دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کے مغربی حصوں بالخصوص تعز کے اطراف میں سرکاری افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والی ان شدید مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حوثی جنگجو اور حکومتی فوجی شامل ہیں۔ لڑائی کے اس تازہ سلسلے نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ پرتشدد کارروائیوں اور گولہ باری کے باعث مقامی آبادی کو ایک نئی نقل مکانی کی لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں شہری محفوظ مقامات کی تلاش میں دیگر علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین اور فیلڈ رپورٹس کے مطابق، حوثی باغیوں کی جانب سے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم خلیجی گزرگاہوں اور اہم علاقوں کی طرف پیش قدمی کی کوششوں کے بعد لڑائی میں شدت آئی ہے۔ دوسری طرف، سرکاری افواج اور اتحادی جنگجوؤں نے حوثیوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی دفاعی اور جوابی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے یمن میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر زبردست دھچکا پہنچایا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور متاثرہ علاقوں تک فوری طور پر امدادی سامان پہنچانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔