LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی جانب سے ترک بینک پر پابندیاں اور ایران کے خلاف اقتصادی کارروائیاں

News Image
امریکہ نے ایران کے ساتھ مالی لین دین کی سہولت فراہم کرنے پر ایک ترک بینک اور اس کے ذیلی اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دوسری جانب، امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
امریکہ نے ایران کی مبینہ مالی معاونت اور غیر قانونی لین دین کی سہولت فراہم کرنے کے الزام میں ایک ترک بینک اور اس کے دو ذیلی اداروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس تازہ قدم کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھانا اور اس کے مالیاتی نیٹ ورک کو محدود کرنا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' مہم اب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جس میں اب یورپی یونین بھی شامل ہو چکی ہے جبکہ جنوبی کوریا بھی اس سلسلے میں مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق، ایران کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اس قسم کے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ خطے میں سکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔ دریں اثنا، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اس ترک بینک پر پابندی کے بعد اب مزید بینکوں کے خلاف اس نوعیت کے سخت اقدامات کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ترکی کے ساتھ امریکہ کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے عالمی سطح پر ایرانی تیل اور مالیاتی منڈیوں تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی، جس سے تہران پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب، ترک حکام کی طرف سے اس فیصلے پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی ان پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔