LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش: 1690 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی پھیل گئی جس کے نتیجے میں حصص بازار میں شدید مندی دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1690 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے بعد 175,000 کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 1690 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کا شکار ہو گیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس گراوٹ کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ہے، جس نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ انڈیکس کے 175,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے گر جانے کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور فروخت کا دباؤ بڑھنے سے حصص کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا تسلسل جاری ہے، جہاں ایک جانب گزشتہ سیشنز میں انڈیکس میں معمولی بہتری اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا، وہیں آج کی بڑی گراوٹ نے مارکیٹ کے مجموعی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات اب پاکستان کے کیپٹل مارکیٹ پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی فروخت اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر محتاط انداز اپنانے سے لین دین کا حجم بھی متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا مستقبل اب عالمی صورتحال کے معمول پر آنے سے مشروط ہے۔ اگرچہ گزشتہ دنوں مارکیٹ نے 300 سے 400 پوائنٹس کی بہتری کے ساتھ عارضی بحالی کے اشارے دیے تھے، تاہم جغرافیائی سیاست کے نئے تناؤ نے ان تمام فوائد کو ختم کر دیا ہے۔ کاروباری طبقہ حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ملکی معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ آنے والے سیشنز میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی خبروں اور ملکی معاشی پالیسیوں میں تسلسل پر ہوگا، جبکہ تجزیہ کاروں نے سرمایہ کاروں کو اس نازک وقت میں طویل المدتی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔