World
اقوام متحدہ کی نئی عالمی نقشے کی قرارداد اور افریقہ کا حجم
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افریقہ کے حقیقی حجم کو ظاہر کرنے والے نئے عالمی نقشے کو اپنانے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ ٹوگو کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی حمایت میں 164 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ اس کی مخالفت کرنے والا واحد ملک رہا۔
اقوام متحدہ نے تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے دنیا بھر میں جغرافیائی پیشکش کو بہتر بنانے کے لیے افریقہ کے حقیقی حجم کو ظاہر کرنے والے نئے عالمی نقشے کو اپنانے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ قرارداد مغربی افریقی ملک ٹوگو کی جانب سے پیش کی گئی تھی جسے عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی نقشے صدیوں سے افریقہ کے اصل حجم اور رقبے کو بہت کم کر کے دکھاتے رہے ہیں، جو کہ جغرافیائی لحاظ سے درست نہیں ہے۔
اس اہم قرارداد کے حق میں کل 164 ممالک نے ووٹ دے کر افریقہ کی طویل عرصے سے کی جانے والی اس منصفانہ آواز کی تائید کی۔ اس بھاری اکثریت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیا کے بیشتر ممالک جغرافیائی حقیقت پسندی اور درستگی کے حامی ہیں۔ تاہم، اس قرارداد پر ووٹنگ کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ اس قرارداد کی مخالفت کرنے والا واحد ملک بن گیا، جس نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اکیلے میں مخالفت کا ووٹ ڈالا۔
ماہرین کے مطابق، روایتی مرکیٹر پروجیکشن (Mercator projection) نقشے میں خط استوا سے دور واقع خطوں کو ان کے اصل سائز سے کہیں زیادہ بڑا دکھایا جاتا ہے، جبکہ خط استوا کے قریب واقع افریقہ اور دیگر خطوں کو سکیڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس خامی کی وجہ سے عالمی سطح پر افریقہ کا جغرافیائی اور سیاسی اثر و رسوخ بظاہر کم معلوم ہوتا ہے۔ نئے نقشے کی منظوری کے بعد تعلیمی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور کارٹوگرافی کے شعبے میں افریقہ کو اس کے اصل اور حقیقی حجم کے ساتھ پیش کیا جا سکے گا۔