LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے امن ایلچی ماسکو اور کییف کے دورے پر روانہ

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جن کے تحت امن ایلچی رواں ہفتے کے آخر میں ماسکو اور کییف کا دورہ کریں گے۔ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس سے قبل بھی امن مذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں جو اب تک جمود کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس اور یوکرین کے مابین جاری تباہ کن جنگ کو ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو ایک بار پھر تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ خصوصی امن ایلچی رواں ہفتے کے آخر میں ماسکو اور کییف کا اہم دورہ کریں گے۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان جاری طویل تعطل کو ختم کرنا اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس سے قبل بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی قیادت کر چکے ہیں، تاہم فریقین کے مابین سخت مؤقف اور زمینی حقائق کی وجہ سے مذاکرات اب تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے اور جمود کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ امریکی انتظامیہ اس بات کی خواہاں ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے فوری طور پر جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید انسانی اور معاشی نقصان کو روکا جا سکے۔ ماسکو اور کییف کے دوروں کے دوران یہ ایلچی دونوںممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور جنگ بندی کے ممکنہ خاکہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کے ایجنڈے پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ دنیا بھر کی نگاہیں ایک بار پھر واشنگٹن کی اس نئی سفارتی پیش رفت پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ دورے خطے میں امن کی بحالی یا جاری کشیدگی میں کمی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ فریقین کے مطالبات میں زمین اور سلامتی کے امور پر اب بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم امریکی ایلچیوں کی اس سرگرمی سے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔