World
ملکہ برطانیہ کا جلائی گئی لائبریری کی بحالی پر خوشی کا اظہار
برطانوی ملکہ نے ایک جلائی جانے والی لائبریری کی بحالی پر اپنی انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس المناک واقعے کے بعد لائبریری کے دوبارہ قیام کو ایک خوفناک کہانی کا خوشگوار انجام قرار دیا ہے۔
برطانوی ملکہ نے ایک تباہ شدہ اور جلائی جانے والی لائبریری کی شاندار بحالی اور اس کے دوبارہ کھلنے پر گہرے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اس پراجیکٹ کو انہوں نے ایک خوفناک کہانی کا خوشگوار انجام قرار دیا ہے، جو پورے علاقے کے لیے امید کی کرن ہے۔ یاد رہے کہ یہ لائبریری ایک المناک آتشزدگی کے واقعے میں خاکستر ہو گئی تھی، جس سے قیمتی کتابوں اور تاریخی ورثے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔ اس سانحے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے آگے بڑھ کر امداد کی پیشکش کی تھی۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد ملکہ سمیت معاشرے کی کئی اہم اور بااثر شخصیات نے آگے بڑھ کر اس تاریخی لائبریری کے لیے ذاتی طور پر کتابیں عطیہ کیں۔ ان عطیات کا بنیادی مقصد نہ صرف کتابوں کی کمی کو پورا کرنا تھا بلکہ اس عزم کا اعادہ کرنا تھا کہ علم اور روشنی کی شمع کو کبھی بجھنے نہیں دیا جائے گا۔ اس شاندار تعاون کے نتیجے میں لائبریری کی نہ صرف عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا گیا بلکہ اس کے شیلفز کو نایاب اور معلوماتی کتب سے دوبارہ آراستہ بھی کیا گیا۔ مقامی کمیونٹی اور کتاب دوست حلقوں نے ملکہ اور دیگر تمام نامور شخصیات کے اس اقدام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ ملتا ہے اور ناگہانی آفات یا شرپسند عناصر کی کارروائیوں کے باوجود علم کی ترویج کا سلسلہ نہیں رکتا۔ لائبریری کے دروازے اب عوام اور طلبا کے لیے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں جہاں ہر عمر کے افراد مطالعہ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔