LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں اگست کے دوران ملازمتوں میں اضافہ، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر اثر

News Image
اگست کے مہینے میں امریکی معیشت میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار نئی ملازمتیں شامل ہوئیں جس سے بیروزگاری کی شرح مستحکم رہی۔ اس مثبت جاب گروتھ کے بعد اب ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکہ میں اگست کے مہینے کے دوران روزگار کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور ملک بھر میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار نئی ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔ لیبر مارکیٹ کے اس اضافے نے معاشی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ اس سے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ملک میں بے روزگاری کی شرح مجموعی طور پر مستحکم رہی ہے جو کہ معیشت کی پائیداری کا پتہ دیتی ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست کے مہینے میں ملازمتوں کے اس اضافے میں پبلک اسکولوں اور فوڈ سروسز کے شعبوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ تعلیمی اداروں میں نئی بھرتیوں اور ریسٹورنٹ و ہوٹل انڈسٹری کی ترقی نے مجموعی جاب گروتھ کو سہارا دیا ہے۔ ان شعبوں میں بحالی اور ترقی اس بات کی غماز ہے کہ امریکی صارفین کی قوت خرید اور طلب اب بھی ایک خاص سطح پر برقرار ہے، جو کہ معاشی ماہرین کے لیے ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ تاہم، ملازمتوں میں اس مضبوط اضافے کا ایک اور رخ بھی ہے جسے معاشی تجزیہ کار اہم قرار دے رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں نئی نوکریوں کی تخلیق کا مطلب یہ ہے کہ امریکی معیشت اب بھی توقع سے زیادہ گرم (Overheated) ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے فیڈرل ریزرو پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں اضافہ کرے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو اعتدال پر لایا جا سکے۔ سرمایہ کار اور معاشی مارکیٹس اب فیڈرل ریزرو کے اگلے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شرح سود میں ممکنہ اضافے کا فیصلہ نہ صرف امریکی مالیاتی منڈیوں بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والے ہفتوں میں آنے والے مزید معاشی اعداد و شمار اس بات کا تعین کریں گے کہ مرکزی بینک سود کی شرح کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔