LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی سیاست اور سات اکتوبر کا اثر، نیتنیاہو پر دباؤ

News Image
سات اکتوبر کے واقعات کو تین سال گزرنے کے باوجود یہ معاملہ اسرائیلی سیاست کے مرکز میں ہے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ وہ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔
سات اکتوبر کے واقعات کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے اثرات آج بھی اسرائیلی سیاست کے اندر گہرے طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ تاریخی اور ہلا دینے والا واقعہ اب بھی اسرائیلی سیاسی منظر نامے کا سب سے اہم اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے۔ ملک کے اندر آئندہ انتخابات اور سیاسی مستقبل کی سمت کا تعین بڑی حد تک اسی ایک دن کے اثرات اور اس کے بعد کی صورتحال کے گرد گھوم رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو اس سانحے کے بعد سے لے کر اب تک ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ناقدین اور سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی ایسی شدید ناکامی نیتنیاہو کی زیر قیادت حکومت کی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ تھی۔ اس کے باوجود، نیتنیاہو مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو کم کرنے اور اس ناکامی کا ملبہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سیاسی رسہ کشی نے اسرائیلی معاشرے اور پارلیمنٹ کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ عام شہریوں اور متاثرہ خاندانوں میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ سات اکتوبر کی سکیورٹی غفلت کے ذمہ داروں کا کٹہرے میں احتساب کیا جائے۔ دوسری طرف، حکمران اتحاد سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قبل از وقت انتخابات یا عوامی دباؤ سے بچنے کے لیے بیانیے کو تبدیل کیا جائے۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ جب تک اس سانحے کے بنیادی اسباب اور سیاسی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کیا جاتا، اسرائیل کا سیاسی بحران حل نہیں ہو سکتا۔ سات اکتوبر کا یہ دن آنے والے کئی برسوں تک اسرائیلی انتخابات، عسکری پالیسیوں اور حکومت کی بقا کا فیصلہ کرنے والا سب سے بڑا محرک رہے گا، جس نے ملک کے روایتی سیاسی توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا ہے۔