LIVE
Loading Breaking News...

کوئن بیس کے شیئرز میں نمایاں کمی، آمدنی اور منافع تخمینے سے کم

News Image
مقبول ترین کرپٹوانو کرنسی ایکسچینج کوئن بیس کے حصص کی قیمتوں میں آف ٹریڈنگ کے دوران پانچ فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ گراوٹ اس وقت دیکھنے میں آئی جب کمپنی کے آمدنی اور منافع کے اعداد و شمار وال اسٹریٹ کی توقعات سے کم رہے۔
امریکی کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوئن بیس گلوبل انکارپوریشن کے حصص میں اس وقت نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی جب تجارتی سیشن کے اختتام کے بعد سامنے آنے والے مالیاتی نتائج توقعات سے کمزور نکلے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق کمپنی کے شیئرز میں توسیعی ٹریڈنگ کے دوران پانچ فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ایکسچینج کے لیے یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی حیران کن ہے کہ اس نے حال ہی میں اپنے مارکیٹ شیئر میں ریکارڈ اضافہ حاصل کیا تھا، تاہم اس کے باوجود مالیاتی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو سکا۔ کمپنی کے مالیاتی خسارے کی بنیادی وجہ ڈیجیٹل ٹوکنز کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ اور مارکیٹ میں کئی سالوں کی کم ترین سطح پر پہنچ جانے والی اتار چڑھاؤ کی کمی (وولٹیلٹی) بتائی جا رہی ہے۔ ان عوامل نے کوئن بیس کے بنیادی تجارتی کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے کیونکہ ایکسچینج کی آمدنی کا بڑا انحصار روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹرانزیکشنز اور تجارتی حجم پر ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں سستی اور ٹریڈنگ کا حجم گھٹنے کی وجہ سے کمیشن کی مد میں ملنے والی آمدنی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں جاری جمود اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی نے کوئن بیس جیسے بڑے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اگرچہ کمپنی طویل مدتی بنیادوں پر اپنے پلیٹ فارم کو بہتر بنانے اور نئی خدمات متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے، تاہم قلیل مدتی منافع کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ وال اسٹریٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک مارکیٹ میں دوبارہ تیزی کا رجحان اور ٹوکنز کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، اس وقت تک کرپٹو ایکسچینجز کو اسی قسم کے مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے مجموعی طور پر کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ دیگر کاروباری اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنائیں۔ کوئن بیس انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اخراجات میں کمی اور متبادل سروسز بشمول سبسکرپشن ماڈلز پر زور دے رہی ہے تاکہ روایتی ٹریڈنگ فیس پر انحصار کو کم کیا جا سکے، تاہم فی الحال مارکیٹ کی توجہ کمپنی کی حالیہ آمدنی میں کمی پر ہی مرکوز ہے۔