World
اقوام متحدہ کے مغربی کنارے میں اسرائیلی آپریشن اور نسلی تطہیر کے خدشات
اقوام متحدہ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ فوجی آپریشن کے دوران انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک تینتیس ہزار سے زائد فلسطینی مہجرین اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حالیہ فوجی آپریشن کے تناظر میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں اور بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی نسلی تطہیر کے مترادف ہو سکتی ہیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید خطرناک حد تک اضافہ کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے بعد سے اب تک تینتیس ہزار سے زائد فلسطینی مہاجرین اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ان بے گھر ہونے والے افراد کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر امدادی سامان کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور پانی کی فراہمی کے نظام کاپہیا رک گیا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی مبصرین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور فریقین کو سفارتی مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔