World
امریکہ میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ، جنگی خدشات کا اثر
امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی خدشات کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیبر ڈے کے موقع پر پٹرول کی قیمتیں بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ دنوں میں ڈیزل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔ اس اچانک اور بڑے اضافے کے پیچھے مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی خدشات کو اہم ترین محرک قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی رس رسد اور جغرافیائی سیاسی صورتحال نے امریکی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لیبر ڈے کے طویل تعطیلاتی ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمتوں نے بھی تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور نئے بلند ترین نرخ درج کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر اکثر امریکی شہری سفر اور تعطیلات کی تیاری کر رہے تھے، تاہم ایندھن کی گرانی نے شہریوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کی اس لہر نے عام صارفین کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور ایندھن کے نرخ مسلسل عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
حالیہ معاشی اور سیاسی منظرنامے میں ایندھن کی ان بلند قیمتوں کو نومبر میں ہونے والے اہم ترین وسطی مدتی انتخابات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں یہ ریکارڈ اضافہ حکمران جماعت کے لیے انتخابات میں ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ عامتہ الناس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو امریکی معیشت کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔