World
امریکا کا غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کی اسرائیلی تجویز پر دوٹوک مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ واشنگتن فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حلقوں کی جانب سے غزہ کے مکینوں کو نکالنے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ واشنگتن غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا یا جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی اسرائیلی تجویز یا منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر غزہ کے مستقبل اور وہاں کے رہائشیوں کی صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا کوئی بھی ارادہ قابل قبول نہیں ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے اپنے بیان میں امریکی وزارت خارجہ کے نمائندے نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ واشنگتن کی پالیسی بالکل واضح ہے اور وہ خطے میں جبری نقل مکانی یا آبادی کے انخلا کے حامی نہیں ہیں۔ یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کچھ اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے غزہ کے شہریوں کو خطے سے باہر منتقل کرنے کی تجاویز زیر بحث لائی جا رہی تھیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس قسم کی تجاویز پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
غزہ میں جاری طویل کشمکش اور انسانی بحران کے تناظر میں امریکا کا یہ مؤقف سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگتن کی طرف سے اس قسم کے بیانات خطے میں امن کی کوششوں اور دو ریاستی حل کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر ہی رہنا چاہیے اور ان کے انسانی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، خطے میں کشمکش کے خاتمے اور امدادی سامان کی فراہمی کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ امریکی حکام نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ عام شہریوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔