World
اسرائیل کی جانب سے چار لبنانی قیدیوں کی رہائی، صدر عون کا اظہار تشکر
اسرائیل نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی وساطت سے چار مزید لبنانی قیدیوں کو رہا کر کے ان کے وطن واپس بھیج دیا ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اس رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے تحت اسرائیل نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی وساطت سے چار مزید لبنانی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ یہ رہائی دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک خوش آئند قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے خطے میں امن اور مصالحتی کوششوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ رہا ہونے والے قیدیوں کو تمام ضروری قانونی اور طبی مراحل مکمل کرنے کے بعد لبنان کے حوالے کر دیا گیا جہاں ان کا استقبال ان کے اہل خانہ اور اعلیٰ سرکاری حکام نے کیا۔
اس پیش رفت کے بعد لبنانی صدر جوزف عون نے رہائی پانے والے قیدیوں کے اہل خانہ کو مبارکباد دی اور اس انسانی اقدام کو سراہا۔ اپنے ایک بیان میں لبنانی صدر نے خصوصی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کاوشوں اور کوششوں کا دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی مداخلت اور سفارتی دباؤ کی وجہ سے یہ رہائی ممکن ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کا تعاون اور دوست ممالک کی سفارتی کوششیں مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ معاہدہ اور قیدیوں کا تبادلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے اندرونی حالات انتہائی حساس گزر رہے ہیں اور تمام فریقین کے مابین تناؤ کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی چینلز پر مذاکرات جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے چھوٹے اور مثبت اقدامات سے مستقبل میں بڑے امن معاہدوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور انسانی بنیادوں پر حل طلب مسائل کو سلجھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ لبنانی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بقیہ زیر حراست افراد کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔