World
برطانیہ میں ریفارم پارٹی پر غیر ملکی فنڈنگ کی خلاف ورزی کا الزام
برطانیہ میں نائجل فاریج کی جماعت ریفارم یوکے کو خفیہ فوٹیج سامنے آنے کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین سے بچنے کے طریقوں پر گفتگو کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
برطانیہ کی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جب نائجل فاریج کی زیر قیادت جماعت ریفارم یوکے (Reform UK) پر غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ برطانوی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس اور مبینہ خفیہ فوٹیج کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جس نے پارٹی کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ سامنے آنے والی خفیہ فوٹیج مبینہ طور پر پارٹی کے سینیئر عہدیداروں کی ایک ایسی گفتگو کو ظاہر کرتی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر برطانوی انتخابی قوانین اور غیر ملکی فنڈنگ کے ضوابط کو قانونی طور پر چکما دینے یا ان سے بچنے کے طریقوں پر غور کر رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد سیاسی حریفوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ دوسری جانب، ریفارم یوکے کے ترجمان اور پارٹی قیادت نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی سازش قرار دیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ ویڈیوز سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہیں اور ان کا مقصد آئندہ کے انتخابات میں جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی انتخابی کمیشن اس معاملے کا نوٹس لے سکتا ہے، کیونکہ برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے لیے بیرون ملک سے فنڈز حاصل کرنے کے حوالے سے انتہائی سخت اور واضح قوانین موجود ہیں۔ اگر ان الزامات کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو نائجل فاریج اور ان کی پارٹی کو نہ صرف قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ان کی سیاسی ساکھ کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اسکینڈل کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع ہے جو برطانوی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔