Pakistan
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 48 دہشتگرد ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر 48 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں میں مستونگ، کوئٹہ، کلات اور سبی کے اضلاع کو نشانہ بنایا گیا جہاں بھارتی پروکسی اور فتنہ الخوارج کے عناصر سرگرم تھے۔
راولپنڈی (نیوز ڈیسک) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں گزشتہ تین روز کے دوران متعدد 'ہائی تیمپو' انسداد دہشتگردی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 48 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کامیاب آپریشنز مستونگ، کوئٹہ، کلات اور سبی کے اضلاع میں انجام دیے گئے، جن کا مقصد بھارتی پروکسیز، فتنہ الحندوستان اور فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا تھا۔ ریاست ان عناصر کے خلاف بھرپور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے جو ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ مستونگ میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انہیں گھیرے میں لیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی سرنگیں بھی برآمد کر کے تباہ کی گئیں۔ کوئٹہ کے علاقے شبان میں ایک اور کارروائی کے دوران خوارج کے چار ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 26 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ کلات اور سبی کے اضلاع میں بھی سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ سبی کے علاقے بھاگ میں پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ بہادر پولیس اہلکاروں نے دو گھنٹے تک دلیری سے مقابلہ کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اس سال اکیلے بلوچستان میں 1100 سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے ہماری فورسز ہر وقت تیار ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم اپنی عسکری اور سول فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک سے غیر ملکی پشت پناہی رکھنے والے دہشتگردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ حالیہ کارروائیاں صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، جن سے ریاست کی رٹ مزید مضبوط ہوئی ہے۔