World
نیپال سیلاب تباہی: متاثرین کی کہانیاں اور تازہ ترین صورتحال
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں نے زمین کا نام و نشاں مٹنے کی دردناک داستانیں بیان کی ہیں۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال میں حالیہ طوفانی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے پورے ملک کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں نے ان کی زمینوں کو اس طرح نگل لیا ہے کہ اب وہاں زمین کا نام و نشاں تک باقی نہیں بچا۔ اس المناک صورتحال نے مقامی آبادی کو صدمے اور بے بسی کی تصویر بنا دیا ہے جہاں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش اور تباہ شدہ گھروں کے ملبے کو ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے ان فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری اور امدادی ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔ سرنگوں اور کٹ جانے والے علاقوں میں پھنسے ورکرز کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں مگر دشوار گزار راستے امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اس بڑی تباہی کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے مایوس ہو کر علامتی رسومات اور اجتماعی آخری رسومات کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے، جو اس سانحے کی گہرائی اور خاندانوں پر گزرنے والے قیامت خیز لمحات کی عکاسی کرتا ہے۔ تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں کی وجہ سے بہت سے دور دراز علاقوں کا رابطہ دارالحکومت سے کٹ چکا ہے، جس سے امدادی سامان کی فراہمی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ادھر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے نیپال کے سیلاب زدگان کے لیے پچاس ملین ڈالر کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، ادویات اور عارضی پناہ گاہوں کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نیپال نے بھی عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے تاکہ انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔