LIVE
Loading Breaking News...

فاکلینڈز آئل پروجیکٹ: ارجنٹائن کا اسرائیلی سرمایہ کاروں کیخلاف کارروائی کا انتباہ

News Image
ارجنٹائن کے صدر جیواویر مئیلی نے فاکلینڈ جزائر کے متنازع تیل منصوبے میں شامل اسرائیلی سرمایہ کاروں اور تیل کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات اور پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خطے پر خودمختاری کے دعوے کے تنازع میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔
ارجنٹائن کے صدر جیواویر مئیلی نے فاکلینڈ جزائر کے قریب تیل کے ایک متنازع منصوبے پر کام کرنے والی کمپنیوں اور اس میں شامل اسرائیلی سرمایہ کاروں کو سخت نتائج کی تنبیہ کی ہے۔ صدر مئیلی نے واضح کیا ہے کہ ارجنٹائن کی حکومت ان غیر ملکی اداروں کے خلاف قانونی اور معاشی پابندیوں پر غور کر رہی ہے جو ملکی خودمختاری کو نظر انداز کر کے اس متنازع خطے میں کاروباری سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔ ارجنٹائن ہمیشہ سے ان جزائر پر اپنا حق جتاتا رہا ہے اور اس نئے تنازع نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، فاکلینڈ جزائر (جنہیں ارجنٹائن میں لاس مالویناس کہا جاتا ہے) کی ملکیت پر برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر جیواویر مئیلی نے ایک بار پھر فاکلینڈ جزائر پر ارجنٹائن کے دعوے کو بھرپور انداز میں دہرایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تبدیلی کی ہوائیں اس حق میں چل رہی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ارجنٹائن کے قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت ترین حکومتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس صورتحال نے سفارتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، بالخصوص جب اس منصوبے میں اسرائیلی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی تیل کمپنیوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ارجنٹائن اور اسرائیل کے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ارجنٹائن کی انتظامیہ اپنی سرزمین کے قریب سمندری حدود میں ہونے والی سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب، برطانیہ اس خطے پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے ہوئے ہے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فاکلینڈز کے معاملات میں کسی بھی تیسرے ملک کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔ عالمی سطح پر اس مسئلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والی سیاسی اور سفارتی پیشرفت نے اس دیرینہ تنازع کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ارجنٹائن کی حکومت اسرائیلی سرمایہ کاروں اور تیل کمپنیوں کے خلاف عملی طور پر کس قسم کے پابندی کے احکامات جاری کرتی ہے۔