Technology
امریکہ میں پانی کے نظام پر سائبر حملے اور سی آئی ایس اے کی ہدایات
امریکہ میں واٹر اور ویسٹ واٹر سسٹمز پر مربوط حملوں کے بعد سائبر سیکیورٹی ایجنسی سی آئی ایس اے نے یوٹیلیٹیز کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ حکام نے انٹرنیٹ سے منسلک کنٹرولرز کو فوری طور پر محفوظ بنانے پر زور دیا ہے۔
امریکہ کی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے ملک بھر کی واٹر اور ویسٹ واٹر یوٹیلیٹیز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے کنٹرولرز اور صنعتی نظام کو فوری طور پر محفوظ بنائیں۔ یہ ہنگامی انتباہ منیسوٹا کے درجنوں واٹر سسٹمز پر ہونے والی مربوط سائبر گھس پیٹھ اور حملوں کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس نے ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عام شہریوں کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق، پی ایل سی یعنی پرو그래میبل لاجک کنٹرولرز کو ہیکرز کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے مکینیکل افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر ان نظاموں تک غیر مجاز رسائی حاصل ہو جائے تو پانی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے یا کیمیکلز کے تناسب میں گڑبڑ کی جا سکتی ہے، جو کہ کسی بڑے انسانی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر سی آئی ایس اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آپریشنل ٹیکنالوجی (او ٹی) سسٹمز کا فوری طور پر جائزہ لیں اور مضبوط فائر والز اور پاس ورڈ پالیسیاں نافذ کریں۔ اس واقعے کے بعد سے امریکی سیکیورٹی ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ واٹر سیکٹر کو طویل المدتی بنیادوں پر اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مذموم حملوں کو روکا جا سکے اور شہریوں کو بلاتعطل اور محفوظ بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔