LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ڈبلیو ٹی آئی 91 ڈالر سے اوپر

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تنازعات میں اضافے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں نوے ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے اکیانوے ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 91 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے جس کی وجہ سے منڈی میں جنگ کا پریمیم ایک بار پھر واپس آ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، توانائی کی سپلائی کے اہم راستوں بالخصوص آبزائے ہرمز اور اہم تنصیبات کے اردگرد سکیورٹی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر مارکیٹ میں یہ توقعات کی جا رہی تھیں کہ آبزائے ہرمز سے تیل کی ترسیل نسبتاً ہموار رہے گی اور قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جائے گا، تاہم حالیہ دنوں میں کشیدگی میں تیزی نے ان تمام تخمینوں کو بدل کر رکھ دیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ ایک ماہ کی نئی بلندی پر پہنچ گئیں۔ اس کے علاوہ خطے میں مختلف تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے مارکیٹ کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری جانب، طلب اور رسد کے توازن کے حوالے سے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش برقرار ہے۔ اگرچہ ایک طرف طلب میں بحالی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، تو دوسری طرف سپلائی کے رکاوٹ بننے والے عوامل مارکیٹ پر حاوی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی مارکیٹ کا رخ مکمل طور پر جیو پولیٹیکل صورتحال پر منحصر ہوگا۔ اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جو عالمی معیشت اور افراط زر پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔