World
یورپی یونین کے پانچ ممالک کا تارکین وطن کے واپسی مراکز پر معاہدہ
جرمنی، آسٹریلیا، یونان، ڈنمارک اور نیدرلینڈز نے تارکین وطن کے لیے نئے واپسی مراکز کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ممالک 2027ء تک اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مراکز کی جگہ کا تعین ابھی باقی ہے۔
یورپی یونین کے پانچ اہم ممالک جرمنی، آسٹریلیا، یونان، ڈنمارک اور نیدرلینڈز تارکین وطن کے حوالے سے ایک نئے لائحہ عمل پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان ممالک نے 2027ء تک تارکین وطن کے لیے واپسی کے خصوصی مراکز کے قیام کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اس مشترکہ اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنانا ہے تاکہ یورپی ممالک پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ابھی تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان پانچوں ممالک نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ متنازعہ واپسی مراکز کہاں واقع ہوں گے اور ان کا جغرافیائی محل وقوع کیا ہوگا۔ اس بارے میں حتمی فیصلے کے لیے مزید مذاکرات اور یورپی قوانین کے تحت مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ناقاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس طرح کے مراکز پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے تاہم یہ ممالک اپنے سیکیورٹی اور سرحدی کنٹرول کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
یورپی یونین کی سطح پر تارکین وطن کا مسئلہ طویل عرصے سے ایک انتہائی بحث طلب موضوع رہا ہے۔ کئی ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جن تارکین وطن کی سیاسی پناہ یا رہائش کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں، انہیں جلد از جلد ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیجا جائے۔ ان پانچ ممالک کا یہ نیا قدم اس سمت میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس پر آئندہ چند برسوں میں عمل درآمد متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پاجاتا ہے تو یہ یورپی یونین کی مجموعی تارکین وطن سے متعلق پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھے گا بلکہ غیر قانونی ہجرت کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔ تاہم اس تمام عمل کے دوران انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔