LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارہ خربت التبان میں گھروں کی مسماری اور دیہاتیوں کا ردعمل

News Image
قابض اسرائیلی فورسز کی جانب سے خربت التبان میں بارہ رہائشی مکانات کو مسمار کیے جانے کے بعد بھی مقامی دیہاتیوں نے اپنی زمین نہ چھوڑنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے رہنے کے باوجود اپنے آباؤ اجداد کی زمین پر دوبارہ تعمیرات کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔
مغربی کنارے کے علاقے خربت التبان میں قابض اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں کم از کم بارہ رہائشی مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ اس خونی اور تباہ کن کارروائی نے علاقے کے غریب باسیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جنہیں اب سر چھپانے کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ میسر نہیں ہے۔ تاہم اس تمام تر جبر اور بربادی کے باوجود مقامی دیہاتیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور انہوں نے ہر قیمت پر اپنی آبائی زمینوں پر ڈٹے رہنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی بلڈوزرز اور فوجی دستوں نے بغیر کسی پیشگی اور منصفانہ نوٹس کے ان کے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اس ظالمانہ اقدام کے نتیجے میں درجنوں افراد جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، اچانک بے گھر ہو گئے ہیں اور موجودہ سرد موسم میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان مظالم سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور وہ اپنی صدیوں پرانی تاریخ اور زمین کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ مقامی لوگوں کا عزم ہے کہ وہ اس تباہی کے بعد نہ صرف دوبارہ اپنے گھر تعمیر کریں گے بلکہ قابض فورسز کے سامنے ڈٹ کر اپنے حقوق کی جنگ بھی جاری رکھیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ گھروں کی مسماری ان کے عزم کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی ہے، لیکن وہ ہر مشکل کا مقابلہ کرتے ہوئے یہیں رہیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور بین برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔