LIVE
Loading Breaking News...

یاسین ملک کو پرانے قتل کیس میں پھنسانے کی سازش، جے کے ایل ایف کا ردعمل

News Image
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے چیئرمین یاسین ملک کو ایک پرانے قتل کیس میں ملوث کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جے کے ایل ایف نے یاسین ملک کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر اپنی مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مظفرآباد: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے بھارتی حکام کی جانب سے اپنے قید چیئرمین محمد یاسین ملک کو 36 سال پرانے ایک قتل کیس میں مبینہ طور پر جھوٹا ملوث کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی ریاست کی انوسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے رواں برس جون میں یاسین ملک کو کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے 1990 میں ہونے والے قتل میں نامزد پانچ افراد میں شامل کیا تھا۔ اس صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے جے کے ایل ایف کے مرکزی عہدیداران کا ایک ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پارٹی کے مرکزی انفارمیشن آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔ یہ پیشرفت دہلی کی تہاڑ جیل سے سری نگر میں ایک اضافی سیشن عدالت میں یاسین ملک کی جانب سے جمع کروائے گئے پچیس صفحات پر مشتمل حلف نامے کے بعد سامنے آئی ہے۔ حلف نامے کے مطابق یاسین ملک نے مزید مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کو جرم کا اعتراف یا استغاثہ کے الزامات کی قبولیت نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اس مقدمے میں سزائے موت دی جائے اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا۔ آن لائن اجلاس میں پارٹی کے قائم مقام چیئرمین راجہ حق نواز خان، سفارتی بیورو کے سربراہ پروفیسر راجہ ظفر خان اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی اور یاسین ملک کے حلف نامے کی صداقت کی مکمل تائید کی۔ اجلاس کے دوران جے کے ایل ایف کے رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چیئرمین کی جانب سے قتل کیس اور 1990 میں کشمیری پنڈت برادری کی ہجرت کے حوالے سے فراہم کردہ تفصیلات سچی ہیں اور انہوں نے بھارتی تحقیقاتی اداروں کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ یاسین ملک کی رہائی اور عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لیے 'سیو یاسین ملک' اور 'جسٹس فار یاسین ملک' مہمات کو مزید تیز کرے گی۔ قیادت نے عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ پارٹی چیئرمین کی زندگی کے تحفظ اور ان کی فوری رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دریں اثنا، حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے یاسین ملک کے حلف نامے سے متعلق خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس صورتحال پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے اور یہ معاملہ منصفانہ اور انسانی رویے کا متقاضی ہے۔ میر واعظ نے یہ بھی شکایت کی کہ بھارتی حکام نے انہیں جمعہ کے روز جامع مسجد سری نگر میں خطبہ دینے سے روکنے کے لیے گھر میں نظر بند کر دیا، لیکن وہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔