Technology
ایمازون ذوکس روبوٹ ٹیکسی: امریکہ میں بغیر اسٹیئرنگ گاڑیوں کی منظوری
ایمازون کی خودکار گاڑیوں کی برانڈ ذوکس نے بغیر اسٹیئرنگ وہیل کے روبوٹ ٹیکسیوں کی کمرشل تعیناتی کے لیے امریکی فیڈرل منظوری حاصل کرلی ہے۔ یہ خودکار ٹرانسپورٹیشن کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے جو مستقبل کے سفری نظام میں انقلاب برپا کرے گا۔
ایمازون کی خودکار گاڑیوں کی ذیلی کمپنی ذوکس نے امریکی وفاقی حکام سے بغیر اسٹیئرنگ وہیل اور روایتی پیڈلز کے روبوٹ ٹیکسیوں کے محدود کمرشل استعمال کی باقاعدہ منظوری حاصل کرلی ہے۔ خودکار ٹرانسپورٹیشن کی صنعت میں یہ ایک تاریخی اور غیر معمولی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے قبل روایتی کنٹرولز کے بغیر کسی بھی خودکار گاڑی کو پبلک روڈز پر چلانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس منظوری کے بعد ذوکس اب اپنی اس جدید اور منفرد گاڑی کو تجارتی مقاصد کے لیے سڑکوں پر لانے کے قابل ہو گئی ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایمازون کا ایک بڑا کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
ذوکس کی یہ منفرد روبوٹ ٹیکسی روایتی کاروں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ تو ڈرائیور کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی اسٹیئرنگ وہیل، ایکسلریٹر یا بریک پیڈل جیسی کوئی روایتی چیز موجود ہے۔ اس گاڑی کو مکمل طور پر جدید سنسرز، کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے چلایا جاتا ہے جو مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گاڑی کے اندر مسافر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھتے ہیں، جس سے سفر کا انداز بالکل نیا اور آرام دہ بن جاتا ہے۔ ایمازون طویل عرصے سے اس ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا تھا اور اس منظوری کے ملنے سے کمپنی کے عزائم کو مزید تقویت ملی ہے۔
امریکہ کے متعلقہ وفاقی اداروں نے اس گاڑی کی سکیورٹی اور حفاظتی پروٹوکولز کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ منظوری جاری کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذوکس نے تمام حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کے لیے سخت جانچ کے مراحل طے کیے ہیں، جس کے بعد اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں سڑکوں پر عام شہریوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اس پیش رفت سے نہ صرف خودکار گاڑیوں کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹیشن نظام میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی بغیر اسٹیئرنگ اور خودکار گاڑیوں کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے کی تحریک ملے گی۔