LIVE
Loading Breaking News...

ڈی ایچ اے جھگڑا کیس: انکوائری رپورٹ میں ایف آئی آر کے الزامات جھوٹے قرار

News Image
کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں پیش آنے والے پرتشدد جھگڑے کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درج کی گئی ایف آئی آر کے الزامات حقائق پر پورا نہیں اترتے۔ رپورٹ میں غفلت اور بدعختی برتنے پر پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز 6 کے ایک اپارٹمنٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے کی انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے درج کی گئی ایف آئی آر کے الزامات تحقیقاتی نتائج سے ثابت نہیں ہوتے۔ یہ رپورٹ ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا نے کراچی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کو پیش کی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خاتون کو دوسری خاتون پر ڈمبل سے حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جبکہ پولیس اہلکار حملہ آور خاتون کے بجائے متاثرہ خاتون کو قابو کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ الٹا متاثرہ خاتون اور اس کے بھائی کے خلاف درج کیا گیا تھا جس کے بعد فوری طور پر انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ رقاٹ کے مطابق یہ سارا تنازع کورنگی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) فدا حسین جنواری کی ساس اور ایک دوسرے رہائشی کے درمیان پارکنگ کے تنازع پر شروع ہوا۔ انکوائری کے دوران تفتیشی حکام نے ڈیجیٹل اور دستاویزی شواہد کا جائزہ لینے کے علاوہ 13 افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکار دراصل ایس ایس پی کورنگی کے نجی بنگلے پر ڈیوٹی پر مامور تھے۔ رپورٹ میں واقعے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سادہ لباس میں ملبوس جس شخص نے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑا تھا وہ کانسٹیبل تیمور احمد تھا، جبکہ اسے ہتھیار فراہم کرنے والا اہلکار کانسٹیبل عامر سہیل تھا۔ انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈیفنس تھانے کے ایس ایچ او راشد علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر آفتاب منگی نے بغیر کسی معتبر ثبوت کے موقع پر گرفتاریاں کیں جو کہ جارحانہ فریق کی طرف ان کے جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے مندرجات حقائق پر پورا نہیں اترتے لہٰذا اس مقدمے کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔ مزید برآں، ایس ایس پی کی ساس، ان کی بیٹی، بیٹے اور اس وقت موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی الگ سے مقدمہ درج کیا جانا چاہیے، جبکہ متاثرہ خاندان کو بھی اپنی مرضی کے مطابق قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق حاصل ہے۔ رپورٹ میں کانسٹیبل تیمور اور عامر کے عمل کو مجرمانہ بدسلوکی کے مترادف قرار دیا گیا ہے، جبکہ کانسٹیبل ثاقب اور حیدر کی غفلت اور جانبداری کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے اپنے ماتحت عملے پر نگرانی کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیتا ہے، لہٰذا سول سرونٹس کے ضوابط کے تحت ان کے مجموعی کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیس افسران کو سختی سے ہدایت کی جانی چاہیے کہ وہ عملے کے فرائض پر مامور اہلکاروں کی سخت تربیت اور نگرانی کریں تاکہ وہ عام شہریوں کے ساتھ منصفانہ اور قانونی رویہ اختیار کریں۔ ایسے ناخوشگوار حالات میں پولیس کا فرض بنتا ہے کہ وہ قانون کے مطابق عمل کریں نہ کہ کسی غیر مجاز فریق کے دباؤ میں آکر ایسے اقدامات اٹھائیں۔ اس جامع انکوائری رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ قصوروار پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔