World
یمن تنازع: حوثی پیش قدمی اور باب المندب کے قریب جھڑپوں میں 81 ہلاک
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے اسٹریٹجک بحیرہ احمر کے اہم آبی گزرگاہ باب المندب کی طرف پیش قدمی کے دوران جھڑپوں میں کم از کم 81 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ خونریز جھڑپیں فریقین کے درمیان زمینی حملوں اور راکٹ باری کے بعد شروع ہوئیں جو خطے میں بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 81 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی اور طبی ذرائع کے مطابق یہ تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی دروازے پر واقع اہم اور تنگ بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ راکٹ اور ڈرون حملے بھی کیے۔ حوثی باغیوں کی اس پیش قدمی کا مقصد سرکاری کنٹرول والے بندرگاہی شہر المخا کو گھیرے میں لینا اور باب المندب کے قریب واقع علاقوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے ساحلی قصبے الخوخہ اور اندرونی شہر تعز کے قریب سرکاری پوزیشنوں پر اونچے مقامات پر قبضہ کر لیا ہے جہاں سے وہ گزرنے والے بحری جہازوں کو باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ساحلی علاقے کے ایک فوجی عہدیدار کے مطابق ان کے 24 جوان اس لڑائی میں مارے گئے ہیں جبکہ تعز کے علاقے میں 15 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حوثی کنٹرول والے علاقوں کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کم از کم 42 حوثی جنگجو بھی مارے گئے ہیں، جس سے دونوں اطراف کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسٹریٹجک اہمیت کے حامل باب المندب کے قریب جاری اس کشیدگی کی بڑی وجہ خطے میں تیل کی ترسیل کے راستوں کی تبدیلی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کا یہ راستہ سعودی عرب سمیت دنیا بھر سے تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم متبادل بن چکا ہے۔ حوثی باغی غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں تاکہ عالمی تجارت کو متاثر کیا جا سکے۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یمنی حکومت نے عدن سے تعز کی طرف مزید فوجی کمک روانہ کر دی ہے تاکہ باغیوں کو روکا جا سکے۔ سن 2014 میں دارالحکومت صنعا سے بے دخل ہونے کے بعد عدن کو حکومت کا عارضی مرکز بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی باغی باب المندب اور المخا کے پہاڑی علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو شدید ترین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔