LIVE
Loading Breaking News...

اردگان کا دور اور ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان کا دفاعی معاہدہ

News Image
موجودہ تجزیے میں ترکیہ کی تاریخی اور سیاسی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی اصلاحات سے لے کر صدر رجب طیب اردگان کے دور تک کے اہم موڑ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین حالیہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے اسٹریٹجک اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
ترکیہ کی مسلم شناخت اور اس کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے ملک کو سیکولر خطوط پر استوار کیا۔ اتاترک نے روایتی عثمانی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر مغربی طرزِ زندگی اور نظام کو اپنایا تاکہ ریاست کو جدید بنایا جا سکے۔ اس تبدیلی کا مقصد بنیادی طور پر عربوں کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے تشکیل دینا بھی تھا، کیونکہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران عرب بغاوت نے عثمانی حکومت کو نقصان پہنچایا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترکیہ میں اس مغربی انداز پر بحث شروع ہوئی اور سیاست دانوں نے اس پالیسی کو چیلنج کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں کمال ازم اور روایتی اقدار کے درمیان کشمکش پیدا ہوئی۔ صدر رجب طیب اردگان کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکیہ کی اندرونی اور بیرونی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اردگان کے دور میں ترکیہ نے اپنے تاریخی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ ترکیہ کی جانب سے فلسطین کے معاملے پر سخت مؤقف اپنانا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشمکش اسی تبدیل شدہ خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ عثمانی دور کی شاندار تاریخ، جس میں مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور استنبول جیسے شہر شامل تھے، آج بھی ترک عوام کے لیے فخر کا باعث ہے اور اردگان اسی عظمتِ رفتہ کی بازیافت کی علامت بنے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو خطے میں ایک نیا اسٹریٹجک توازن قائم کرتا ہے۔ سعودی عرب، جو روایتی طور پر امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتا تھا، اب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف، اس اتحاد سے تینوں ممالک کو ایک نیا اعتماد ملا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے محتاج نہیں ہیں، تاہم اس معاہدے کے خطے کے امن اور سکیورٹی پر مرتب ہونے والے اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔