LIVE
Loading Breaking News...

گلاسگو میں پاکستانی طالب علم پر نسلی حملہ اور چہرے کی ہڈیاں ٹوٹنا

News Image
سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں اتوار کی صبح ایک پاکستانی طالب علم کو نسلی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں طالب علم کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں جس پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے شہر گلاسگو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایک بین الاقوامی پاکستانی طالب علم کو نسلی تعصب کی بنیاد پر کیے جانے والے وحشیانہ حملے کے دوران شدید جسمانی چوٹیں آئیں۔ اتوار کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں متاثرہ طالب علم کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں، جس نے مقیم پاکستانی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والے طالب علم مصدق اسماعیل نے ایک ویڈیو بیان میں اس ہولناک واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ گلاسگو میں سیزنز تھیٹر کے قریب پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے اچانک پاکستانی طالب علم کو گھیر لیا۔ حملہ آوروں نے پہلے نسلی نوعیت کے نعرے لگائے اور توہین آمیز الفاظ کہے، اور جب طالب علم نے اس کی مخالفت کی تو انہوں نے اس پر شدید تشدد شروع کر دیا۔ اس اندوہناک تشدد کے نتیجے میں مصدق اسماعیل کے چہرے کی ہڈیوں پر شدید نوعیت کے زخم آئے اور وہیں گر گئے۔ واقعے کے بعد مقامی پولیس اور متعلقہ حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور طلب تنظیموں نے اس پرتشدد واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ برطانوی معاشرے میں نسلی منافرت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں، اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی طلباء کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے شرمناک واقعات کا دوبارہ اعادہ نہ ہو۔