LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب کے بعد صحت کے بحران اور جانی نقصان کی تازہ ترین صورتحال

News Image
نیپال میں تباہ کن سیلاب کا پانی اگرچہ نیچے اترنا شروع ہوگیا ہے لیکن متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض اور ذہنی دباؤ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اس ہولناک آفت کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال اور اس کے گردونواح میں آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ اور سیلابی ریلوں کا پانی اگرچہ اب آہستہ آہستہ اتر رہا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں انسانی مصائب کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سیلاب کے بعد اب بچ جانے والے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین خطرات سر اٹھانے لگے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صاف پانی کی قلت اور نکاسی آب کے نظام کی تباہی کے باعث وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ انتہائی بڑھ گیا ہے، جس سے متاثرہ آبادی بالخصوص بچوں اور بزرگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس ہولناک آفت کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق نیپال اور تبت میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق ہلاکتیں تیرہ سو سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ادارے اور رضاکار دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، لیکن تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیلاب کے مناظر نے نہ صرف لوگوں کے گھر بار اجاڑ دیے ہیں بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سروائیورز کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں اور بستیاں اس طرح تبدیل ہو چکی ہیں کہ اب وہاں رہنے کے قابل کچھ نہیں بچا۔ پیاروں کو کھونے اور سب کچھ برباد ہو جانے کے صدمے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور ماہرینِ نفسیات نے متاثرین بالخصوص بچوں کی کونسلنگ پر زور دیا ہے تاکہ انہیں اس صدمے سے نکالا جا سکے۔ حکومت اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور ادویات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر تباہی کا پیمانہ اتنا وسیع ہے کہ وسائل کم پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اجتماعی تدفین کے عمل میں مصروف ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے، جبکہ دوسری طرف اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور سرچ آپریشن جاری رکھنے کے لیے ریسکیو ورکرز کی دوڑ جاری ہے۔