LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی اور اے جی آئی: نیا اے آئی ماڈل جی پی ٹی سکس استرا متعارف

News Image
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معروف ادارے اوپن اے آئی نے اے جی آئی کے دور میں داخل ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ نئی پیشرفت میں جی پی ٹی سکس استرا کی لانچنگ کو سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی نے ایک بار پھر ٹیک دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق کمپنی نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ انہوں نے اے جی آئی یعنی مصنوعی جنرل انٹیلی جنس کی منزل حاصل کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے جی پی ٹی سکس استرا (GPT-6 Astra) کو بھی متعارف کرا دیا گیا ہے، جسے جدید ترین انٹیلی جنس کا شاہکار قرار دیا جا رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نیا ماڈل کام کی جگہوں پر انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے اس پیشرفت کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے 'اے جی آئی کے دور' کا آغاز قرار دیا گیا ہے۔ مائیکروسافٹ فاؤنڈری اور ایزور پلیٹ فارمز پر اس فرنٹئیر انٹیلی جنس کی دستیابی نے کاروباری اداروں کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ جی پی ٹی سکس استرا کو اے آر سی اے جی آئی تھری اور اے آر سی پرائز کے تناظر میں بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ مصنوعی ذہانت کی کارکردگی کو جانچنے کے معیارات ہیں۔ تاہم، اے جی آئی یعنی مصنوعی جنرل انٹیلی جنس کی اصطلاح ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس سے مراد ایسا اے آئی سسٹم ہے جو تمام شعبوں میں انسانی سطح کی سوچ، سمجھ اور مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ماضی میں اس سنگ میل کو حاصل کرنے کے لیے کئی سال کی تحقیق کا تخمینہ لگایا جاتا تھا، لیکن حالیہ پیشرفت نے اس ڈیڈ لائن کو بہت قریب کر دیا ہے۔ سائنسی اور تکنیکی حلقوں میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا واقعی ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں یا یہ محض مارکیٹنگ کا ایک حربہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے اثرات معاشرے، معیشت اور روزگار پر گہرے نقوش چھوڑیں گے۔ جہاں ایک طرف کمپنیاں اس سے زیادہ پیداواریت کی توقع کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف ماہرین اخلاقی اور حفاظتی خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کی یہ تازہ ترین پیشرفت یقینی طور پر آنے والے دور کی سمت طے کرے گی اور دنیا بھر کے محققین کی نظریں اب اسی ٹیکنالوجی کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔