LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون 18 پرو کی میموری قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ اور صارفین پر اثرات

News Image
ایپل کے آنے والے آئی فون 18 پرو کے لیے میموری کی لاگت میں تقریباً چار سو فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اضافے کا براہ راست اثر مستقبل میں سمارٹ فون کی مارکیٹ اور صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل کے آنے والے فلیگ شپ سمارٹ فون آئی فون 18 پرو کے حوالے سے ایک اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ڈیوائس میں استعمال ہونے والی میموری اور سٹوریج کے اجزاء کی قیمتوں میں تقریباً چار سو فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہارڈ ویئر انڈسٹری میں ہونے والی اس اچانک تبدیلی نے تکنیکی ماہرین اور تجارتی تجزیہ کاروں کو سوچ میں ڈال دیا ہے کہ آیا ایپل اس اضافی بوجھ کو خود برداشت کرے گا یا اس کا مالیاتی بوجھ صارفین پر ڈالا جائے گا۔ سمارٹ فونز کی دنیا میں میموری کی قیمتیں ہمیشہ سے ہی مینوفیکچرنگ لاگت کا ایک اہم حصہ رہی ہیں، تاہم اس پیمانے کا اضافہ انتہائی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کی بنیادی وجہ عالمی سپلائی چین کے چیلنجز اور جدید ترین سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ ایپل کی جانب سے تحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، مگر مارکیٹ کے مبصرین کا اندازہ ہے کہ کمپنی اپنے پرو ماڈلز کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایپل کے ستمبر کے شیڈول اور آنے والے دیگر بڑے ایونٹس کے حوالے سے بھی تجارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ حال ہی میں سیٹی گروپ کی جانب سے فولڈ ایبل آئی فون کے حوالے سے بھی امید افزا تخمینے پیش کیے گئے ہیں جن میں دو ہزار ڈالر تک کی ممکنہ قیمت کے باوجود لاکھوں یونٹس کی فروخت کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے سرمایہ کار اور صارفین دونوں ہی ایپل کی اگلی مصنوعات اور ان کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بے چینی سے منتظر ہیں کیونکہ میموری کی لاگت میں ہونے والا یہ نمایاں اضافہ پوری انڈسٹری کے لیے ایک نیا رجحان ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایپل کس طرح اس لاگت کے دباؤ کو سنبھالتا ہے اور کیا اس کا اثر آئی فون کی عمومی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے یا نہیں۔