LIVE
Loading Breaking News...

فاک لینڈ جزائر تنازع، ارجنٹائن کے مطالبات اور ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

News Image
ارجنتائن کے صدر جیواور میلی کی جانب سے فاک لینڈ جزائر پر نئے عزم کے اظہار کے بعد دنیا بھر میں سفارتی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اب تمام نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لگی ہیں کہ آیا وہ برطانوی حکمرانی کے حوالے سے واشنگٹن کے روایتی مؤقف میں کوئی تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔
فاک لینڈ جزائر کے تنازع پر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے، کیونکہ ارجنٹائن کی قیادت نے اس دیرینہ مسئلے پر اپنے مطالبات میں نمایاں تیزی لانے کا عندیہ دیا ہے۔ ارجنٹائن کے صدر جیواور میلی نے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں تبدیلی اور نئے عزم کی جو لہر چلائی ہے، اس میں فاک لینڈ (جنہیں ارجنٹائن میں لاس مالویناس کہا جاتا ہے) کا مقدمہ سرفہرست ہے۔ صدر میلی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اس خطے پر ارجنٹائن کے دعوے کو منوانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے، جس سے برطانیہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی سیاسی منظرنامے پر ایک بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ واشنگٹن اس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا۔ دنیا بھر کے مبصرین اور سفارتی حلقے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ردعمل کو اس پورے تنازع میں ایک کلیدی عنصر قرار دے رہے ہیں۔ ماضی میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات انتہائی گہرے اور تزویراتی نوعیت کے رہے ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے غیر متوقع اور مفاداتی انداز نے کئی بار روایتی اتحادیوں کو بھی حیران کیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ برطانوی خودمختاری کی حمایت جاری رکھتی ہے یا پھر ارجنٹائن کے ساتھ نئے تجارتی اور سفارتی تعلقات کی روشنی میں کوئی لچکدار رویہ اپناتی ہے۔ دوسری طرف، برطانوی حکومت نے اس معاملے پر ہمیشہ دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ فاک لینڈ کے عوام خود ارجنٹائن کے ساتھ الحاق نہیں کرنا چاہتے اور وہ برطانوی پرچم کے نیچے رہنے کے خواہش مند ہیں۔ جزائر کے رہائشیوں کی اکثریت نے ماضی میں ریفرنڈم کے دوران برطانیہ کے حق میں ووٹ دیا تھا، جسے لندن حکومت اپنی پوزیشن کی سب سے بڑی قانونی اور اخلاقی دلیل سمجھتی ہے۔ برطانیہ کے لیے اس خطے سے دستبردار ہونا نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ عسکری اور اسٹریٹجک لحاظ سے بھی ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم، ارجنٹائن کے نئے صدر کے جارحانہ سفارتی اقدامات اور امریکہ کی طرف سے ممکنہ اشاروں کے بعد آنے والے دنوں میں اس جزیرے کی ملکیت کا تنازع ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ سکتا ہے۔ تمام فریقین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن اس حساس معاملے پر باضابطہ طور پر کیا پالیسی اختیار کرتا ہے کیونکہ امریکی مؤقف ہی اس خطے کے مستقبل کا رخ طے کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوگا۔