LIVE
Loading Breaking News...

امریکی وزیر تجارت کا ڈیٹا سینٹرز اور پانی کے استعمال سے متعلق دعویٰ غلط

News Image
امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز پانی کا استعمال نہیں کرتے۔ ماہرین نے اس دعوے کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔
امریکہ کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کی جانب سے حال ہی میں ایک متنازع بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جدید ڈیٹا سینٹرز پانی کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد تکنیکی ماہرین اور ماحولیاتی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور اسے حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل معیشت کا دارومدار جن بڑے ڈیٹا سینٹرز پر ہے، وہ بہت زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور ان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کے وسیع نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے فروغ کے بعد ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سینٹرز میں ہزاروں طاقتور سرورز دن رات کام کرتے ہیں جنہیں زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے ائیر کنڈیشنگ اور واٹر کولنگ سسٹمز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک اوسط درجے کا ڈیٹا سینٹر روزانہ لاکھوں گیلن پانی صرف اپنے کولنگ سسٹمز کے لیے استعمال کرتا ہے، جو مقامی آبی ذخائر پر ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پالیسی سازوں کو ڈیٹا سینٹرز کی توانائی اور پانی کی کھپت سے متعلق درست معلومات ہونی چاہئیں۔ غلط بیانی یا زمینی حقائق سے لاعلمی مستقبل میں ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اس تنازع کے بعد اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے پائیدار اور ماحول دوست متبادل تلاش کریں۔