LIVE
Loading Breaking News...

کوسٹا ریکا میں امریکی فوجی کارروائیاں: صدر کا بیان

News Image
کوسٹا ریکا کی صدر نے ملک کے اندر امریکی فوجی کارروائیوں کے امکان پر کھلے پن کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی اقدام کے لیے ملک کی کانگریس کی باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔
کوسٹا ریکا کی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ملک کی صدر نے اپنے ایک بیان میں ملکی حدود کے اندر ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مثبت رجحان کا اظہار کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان خطے میں سکیورٹی تعاون کے ایک نئے باب کا اشارہ ہو سکتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی آ سکتی ہے۔ صدر لورا فرنانڈیز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ وہ اس سمت میں سوچنے کے لیے تیار ہیں، تاہم یہ تمام عمل انتہائی شفافیت اور قانونی تقاضوں کے تحت ہی آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کوسٹا ریکا جیسے خودمختار ملک میں کسی بھی بیرونی یا امریکی فوجی سرگرمی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک کی قانون ساز اسمبلی یعنی کانگریس کی منظوری حاصل کرنا آئینی اور قانونی طور پر لازمی ہوگا۔ صدر کے اس بیان کے بعد ملک کے اندر سیاسی مباحثے شروع ہو چکے ہیں جہاں اپوزیشن جماعتیں اور سول سوسائٹی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بیان بنیادی طور پر خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کا عکاس ہے۔ کوسٹا ریکا طویل عرصے سے ایک ایسا ملک رہا ہے جس کی باقاعدہ فوج نہیں ہے اور وہ اپنی داخلی سلامتی کے لیے پولیس فورس پر انحصار کرتا ہے، اس لیے امریکی فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کی کارروائی کا خیال ملک کی روایتی دفاعی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ کوسٹا ریکا کی کانگریس اس حساس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور کیا عوامی نمائندے اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں یا اس کی مخالفت میں آواز اٹھاتے ہیں۔