LIVE
Loading Breaking News...

ٹیسلا کی ڈرائیورلیس ٹیکسیاں اور امریکی ریگولیٹر کی تحقیقات

News Image
امریکہ کے روڈ سیفٹی ریگولیٹر نے ٹیسلا کی نئی سیلف ڈرائیونگ کاروں کے حوالے سے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم ٹیسلا کی جانب سے بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کے اجراء کے فوراً بعد اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ کے قومی ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) نے معروف الیکٹرک گاڑی ساز ادارے ٹیسلا کی نئی خودکار گاڑیوں اور ڈرائیورلیس ٹیکسیوں کے حوالے سے ایک باضابطہ حفاظتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ٹیسلا نے اپنی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسیوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا تھا۔ حکام کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ نئی خودکار ٹیکنالوجی سڑک پر چلنے والے دیگر افراد اور مسافروں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں۔ ٹیسلا کی جانب سے طویل عرصے سے سیلف ڈرائیونگ اور خودکار نظام پر کام کیا جا رہا ہے، اور کمپنی اسے مستقبل کی نقل و حرکت کا سب سے بڑا انقلاب قرار دیتی ہے۔ تاہم، روڈ سیفٹی کے وفاقی اداروں کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ تحقیقات کے دوران ان تمام واقعات اور تکنیکی رپورٹس کا احاطہ کیا جائے گا جو حالیہ دنوں میں ٹیسلا کی خودکار گاڑیوں کی نقل و حرکت سے جڑی ہوئی ہیں۔ امریکہ میں آٹوموبائل انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اس قسم کی تحقیقات کا مقصد صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن ٹیکنالوجی گاڑیوں میں عام ہوتی جا رہی ہے، ویسے ہی حکومتی ادارے بھی قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹیسلا کے لیے یہ تحقیقات ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ کمپنی کا مستقبل بڑی حد تک اس کی خودکار ڈرائیونگ کی کامیابی اور ریگولیٹرز کی منظوری پر منحصر ہے۔