LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ یوکرین جنگ، ڈونلڈ ٹرمپ کا مالی امداد واپس لینے کا مطالبہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے ماضی میں کی جانے والی مالی اعانت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس رقم کو واپس لینے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے جس سے یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کی جنگی کوششوں کے لیے ماضی میں فراہم کی جانے والی امریکی مالی اور فوجی امداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ کس طرح امریکہ نے یوکرین کو بھاری رقوم فراہم کیں، اور اب انہوں نے اس امدادی رقم کو واپس لینے یا اس کی وصولی کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ اس متنازعہ بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا آنے والے وقتوں میں یورپ کو یوکرین کے دفاع کے لیے خود مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا یا پھر امریکہ کو فوجی امداد کی فراہمی کے بدلے براہ راست قیمت چکانی ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ موقف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ لے کر آ سکتا ہے، کیونکہ یورپ پہلے ہی سلامتی اور دفاع کے امور پر امریکہ پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ یوکرین کی جنگ جو طویل عرصے سے مغربی ممالک کی مالی اور عسکری پشت پناہی پر چل رہی ہے، اس تازہ امریکی موقف کے بعد ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر امریکہ واقعی یوکرین کے لیے اپنی ماضی کی امداد کی وصولی کے لیے کوئی لائحہ عمل بناتا ہے تو یورپی یونین کے ممالک پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یوکرین کے حکام اور یورپی دارالحکومتوں میں اس بیان پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی تعاون کے بغیر یوکرین کے لیے روسی جارحیت کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے کہ آیا یورپ اپنے دفاعی اخراجات خود اٹھانے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔