World
ٹرمپ کا ایران تنازعہ پر متنازع بیان، ویتنام جنگ سے موازنہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو انتہائی معمولی قرار دیتے ہوئے جانی نقصان کا موازنہ ویتنام جنگ سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بہت کم ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے بیانات سے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس بار انہوں نے ایران کے ساتھ تنازعے اور جنگی صورتحال کو انتہائی ہلکا پھلکا اور معمولی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات اور کشیدگی اتنی بڑی نہیں تھی جتنا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کے حق میں جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پورے تنازعے کے دوران صرف اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اسے کسی بڑی جنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ تاریخی ویتنام جنگ کے ساتھ کیا جہاں امریکی فوجیوں کو انتہائی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور دسیوں ہزار فوجی مارے گئے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ اس قسم کے بیانات خطے میں موجود امریکی اتحادیوں اور مخالفین دونوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس دعوے پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور ناقدین اسے زمینی حقائق سے لاتعلقی قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ کے اندر بھی اس بیان کو لے کر سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ سوچ ان کی خارجہ پالیسی کے اس انداز کی عکاسی کرتی ہے جہاں وہ طویل اور مہنگی جنگوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور اکثر امریکی فوجیوں کی جانوں کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے اس تازہ بیان پر ایرانی حکومت یا دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے کیا ردعمل آتا ہے۔