Pakistan
پاکستان کا بھارت کے ناروال مندر سے متعلق دعووں پر دوٹوک موقف
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے تمام بے بنیاد دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی سستے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں متاثرہ عمارت کی بحالی کے لیے فوری طور پر اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے ناروال مندر سے متعلق بھارتی حکومت اور میڈیا کے بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ نئی دہلی حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور اس طرح کے سستے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور عالمی برادری کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت اور ان کا احترام اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ناروال میں متاثرہ عمارت کی بحالی اور مرمت کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے فوری نوعیت کے اقدامات کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے، تاکہ وہاں کے مقامی باشندے اور یاتری اپنے مذہبی فرائض بلا خوف و خطر اور مکمل آزادی کے ساتھ سر انجام دے سکیں۔ بھارتی الزامات کے جواب میں اسلام آباد نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کو اپنے اندرونی مسائل اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا جواب دینا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ بے بنیاد الزام تراشیوں کا سہارا لے۔
دفتر خارجہ نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پھیلائے جانے والے جھوٹ کا نوٹس لیں اور اقلیتوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں پر نئی دہلی کو جوابدہ بنائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ بین المذہب ہماہنگی، مذہبی سیاحت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور کرتاپور راہداری اس کی روشن مثال ہے۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف ہے کہ خطے میں امن و امان اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھارت کو الزام تراشی کی سیاست ترک کرنا ہوگی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔