LIVE
Loading Breaking News...

ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجویز، وفاقی وزیر کا قومی مباحثے کا مطالبہ

News Image
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں انتظامی بہتری کے لیے پندرہ تک نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے اس اہم امور پر سیاسی اتفاق رائے اور سنجیدہ قومی مباحثے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک میں انتظامی بہتری اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے پندرہ تک نئے صوبے تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ چاروں صوبے وقت کے ساتھ ساتھ انتہائی مرکزیت کا شکار ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے نچلی سطح تک وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے حساس اور دور رس نتائج کے حامل معاملے پر کسی بھی قسم کی یکطرفہ پیشرفت کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین وسیع تر سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ انتظامی اکائیوں کو چھوٹا کیا جائے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولتیں اور انصاف میسر آ سکے۔ اجلاس کے دوران اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ وفاقی طرزِ حکومت کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے اس بات کی وکالت کی کہ اس سنجیدہ موضوع پر پارلیمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک جامع اور کھلا قومی مباحثہ شروع کیا جانا چاہیے تاکہ ملک اور قوم کے مفاد میں بہترین فیصلے کیے جا سکیں۔ ماہرینِ سیاسیات اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس تجویز کو سراہا جا رہا ہے، تاہم اس پر حتمی اتفاق رائے کے حصول کے لیے تمام جماعتوں کو اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس بحث کا آغاز کرنے کا مقصد ملک کے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔