Business
اسٹیٹ بینک کا راءست کے متعلق منی لانڈرنگ کی رپورٹس پر ردعمل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے راءست سسٹم کے حوالے سے زیر گردش ان تمام خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں اسے منی لانڈرنگ سے جوڑا جا رہا تھا۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ یہ فنانشل سسٹم انتہائی محفوظ ہے اور اس پر منفی پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ان تمام میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں ملک کے فوری ادائیگی کے نظام یعنی 'ءراست' کو منی لانڈرنگ یا کسی بھی غیر قانونی مالیاتی سرگرمی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ رپورٹس حقائق کے برعکس اور مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ حکام کے مطابق راءست سسٹم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق انتہائی سخت سکیورٹی پروٹوکولز کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی استعمال کی گنجائش کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
مرکزی بینک کا مزید کہنا تھا کہ راءست پاکستان کا ایک جدید ترین ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم ہے جسے ملک میں مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس نظام کے ذریعے عام شہریوں اور کاروباری اداروں کو محفوظ، شفاف اور تیز رفتار لین دین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اس طرح کی بے بنیاد افواہیں ملک کے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل فنانشل انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں جو کسی مصدقہ تحقیق یا حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ مرکزی بینک اور دیگر ریگولیٹری ادارے ملک کے مالیاتی نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے ہم وقت تیار ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیاں مکمل حفاظتی حصار میں ہو رہی ہیں اور راءست کا نظام تمام قانونی تقاضوں کو سختی سے پورا کرتا ہے۔