LIVE
Loading Breaking News...

سری لنکا امریکہ مشترکہ آپریشن، منشیات کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب

News Image
سری لنکا اور امریکی انسدادِ منشیات کے اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران افغانستان اور پاکستان سے منسلک منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی خطرناک آئس اور دیگر منشیات برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سری لنکن اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی بین الاقوامی کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان سے منسلک منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ اس مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں کروڑوں یورو مالیت کی خطرناک منشیات آئس برآمد کی گئی ہے جبکہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں امریکی ادارے ڈی ای اے اور سری لنکن پولیس نے اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق انسدادِ منشیات فورس نے اس کارروائی میں اہم معاونت فراہم کی جبکہ کارروائی کے دوران کولمبو پورٹ پر ایک بڑی کھیپ کو پکڑا گیا جو کہ مبینہ طور پر تولیوں اور دیگر تجارتی سامان کی آڑ میں سمگل کی جا رہی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اٹھارہ ملین یورو سے زائد مالیت کی میتھمفیٹامین یعنی آئس ضبط کی گئی ہے جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں انتہائی مہنگی داموں فروخت کی جانی تھی۔ اس بین الاقوامی کارٹیل کے تانے بانے خطے کے مختلف ممالک سے ملتے ہیں جس پر سکیورٹی ادارے طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے تھے۔ مقامی سطح پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کارروائی کے تسلسل میں اہم گرفتاریاں کی ہیں۔ کراچی پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دو سو کلو گرام آئس ضبط کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک افغان شہری سمیت ایک مقامی سہولت کار کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ نیٹ ورک انتہائی چالاکی کے ساتھ تجارتی سامان کے کنٹینرز کی آڑ میں منشیات کی ترسیل کا کام کر رہا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا اور امریکہ کی اس مشترکہ کامیابی سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی کارٹیلز کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس نہ صرف خطے کے نوجوانوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ادارے اب اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ کارندوں کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مار رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔