Pakistan
پمز اسپتال آتشزدگی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا جواب طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد قانونی اور انتظامی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ فریقین سے باضابطہ طور پر جوابات طلب کر لیے ہیں۔ عدالت عالیہ کا یہ اقدام اس سانحے کے اسباب جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غفلت یا لاپرواہی برتنے والے کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس قسم کے حادثات دوبارہ پیش نہ آنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ادھر پولیس نے اس معاملے کی اپنی ابتدائی اور تفصیلی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق پمز اسپتال آتشزدگی کی مکمل انکوائری رپورٹ تیار کرنے کے بعد اسے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ اس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ رپورٹ میں واقعے کے محرکات اور ممکنہ غفلت کے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس پاکستانی اسپتال میں پیش آنے والے سانحے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے المناک واقعات سے نمٹنے کے لیے پورے ملک کے اسپتالوں کے نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی شدید ضرورت ہے تاکہ مریضوں اور طبی عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور آئندہ ایسی غفلت کا سدباب کیا جا سکے۔