LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران جنگ کو چھوٹا تنازع قرار دینے کا دعویٰ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو معمولی قرار دیا ہے جبکہ اس جنگ میں اب تک اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن کی طرف سے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو 'معمولی معاملہ' قرار دیتے ہوئے اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اس کشیدگی کے نتیجے میں اب تک اٹھارہ امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سینکڑوں دیگر شدید زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ جانی نقصان کے باوجود اس طرح کے بیانات کو غیر سنجیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تازہ ترین رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران کے اہم مقامات اور جوہری تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے، جن میں پکیکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے امکانات نے عالمی برادری بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال انتہائی نازک اور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔ سفارتی محاذ پر صورتحال یہ ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششیں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو چکی ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دروازے بند ہونے کے بعد اب طاقت کے استعمال کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں رجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی کے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران کے اندر کسی بڑی فوجی کارروائی یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے پورے خطے پر انتہائی خطرناک اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی سپلائی لائنز، تجارتی راستے اور خطے میں موجود دیگر اتحادی ممالک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس سے ایک بڑی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔